زکوٰۃ کیلکولیٹر — قطر جائیداد 2026 (QAR)

قطر 2026 میں جائیداد کے لیے مفت زکوٰۃ کیلکولیٹر۔ QAR لائیو قیمتیں، حنبلی نصاب۔ فوری، علماء کی تصدیق شدہ۔

🏘️جائیدادزکوٰۃ کیلکولیٹر

🇶🇦قطر · QAR

1ترتیبات

فقہی مسلک

نصاب کی بنیاد

⚖️موجودہ نصاب: QAR 27,880.0085 گرام سونا

ℹ️ سونا: ~QAR 328.00/g · چاندی: ~QAR 3.71/g (تخمینی — لائیو قیمتوں سے جڑ رہا ہے...)

2آپ کے قابلِ زکوٰۃ اثاثے

🥇 سونا

سونے کی چیز 1

🥈 چاندی

QAR

بینک اکاؤنٹس، بچت، جمع، نقد رقم۔

QAR
QAR

تمام کرپٹو ہولڈنگز کی کل مارکیٹ ویلیو۔

QAR

انوینٹری + نقد + تجارتی وصولیاں۔ ثابت اثاثے (مشینیں، فرنیچر) خارج کریں۔

🏠 جائیداد

بنیادی رہائش مستثنیٰ ہے (علماء کا اجماع)۔ مندرجہ ذیل صرف فروخت کے لیے رکھی جائیداد یا کرایے کی آمدنی پر لاگو ہوتا ہے۔

QAR
QAR

صرف محفوظ کی گئی رقم — جائیداد کی قیمت نہیں۔

QAR

3قرضے اور واجبات

اگلے 12 ماہ میں واجب الادا قرضے حنبلی مسلک میں کٹوتی کے قابل ہو سکتے ہیں۔

QAR
QAR

صرف اگلے 12 ماہ کی اقساط — کل بقایا رقم نہیں۔

4زکوٰۃ کے حساب کا نتیجہ

اپنا زکوٰۃ حساب دیکھنے کے لیے اوپر اپنے اثاثے درج کریں۔

اہم انتباہ

یہ کیلکولیٹر عام قبول شدہ علمی رہنمائیوں کی بنیاد پر ایک عمومی تخمینہ فراہم کرتا ہے۔ زکوٰۃ کی ذمہ داری انفرادی حالات، مسلک، اور مقامی علما کی آراء کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔ ہمیشہ کسی مستند اسلامی عالم سے رجوع کریں اپنی صورتحال کے لیے مخصوص حکم کے لیے۔ یہ آلہ کوئی فتویٰ یا شرعی حکم نہیں ہے۔

قطر میں جائیداد کی زکوٰۃ کے بارے میں

قطر میں سرمایہ کاری کی جائیداد اور کرایہ کی آمدنی پر زکوٰۃ کا حساب لگائیں۔ بنیادی رہائش علمائے کرام کے اجماع سے مستثنیٰ ہے۔ ہمارا کیلکولیٹر QAR میں کرایہ کی آمدنی کی زکوٰۃ اور فروخت کے لیے جائیداد کو ہینڈل کرتا ہے۔

حنبلی مسلک کا حکم

Primary residence exempt. Rental income zakatable as cash. Property for resale: market value × 2.5%. Debts deductible.

ماخذ: قطر کی وزارت اوقاف و اسلامی امور

اکثر پوچھے گئے سوالات

کیا میرا گھر زکوٰۃ کے تابع ہے؟

نہیں۔ آپ کی بنیادی رہائش علمائے کرام کے اجماع سے زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہے۔ صرف سرمایہ کاری کی جائیداد اور کرایہ کی آمدنی قابلِ زکوٰۃ ہیں۔

کرایہ کی آمدنی پر زکوٰۃ کیسے حساب لگائی جاتی ہے؟

زکوٰۃ خالص کرایہ کی آمدنی (اخراجات کے بعد) پر واجب ہے جو ایک قمری سال تک جمع کی گئی ہو۔ کرایہ کی آمدنی آپ کے کل نقد رقم میں شامل کر کے اکٹھی حساب لگائی جاتی ہے۔

کیا جس جائیداد کو میں بیچ رہا ہوں اس پر زکوٰۃ واجب ہے؟

جی ہاں۔ دوبارہ فروخت کے لیے رکھی گئی جائیداد کو تجارتی سامان (عروض التجارة) سمجھا جاتا ہے۔ اگر نصاب سے زیادہ ایک قمری سال تک رکھی جائے تو زکوٰۃ موجودہ مارکیٹ ویلیو کا 2.5% ہے۔